علی کی بیٹی

کلام: سید محسن نقوی

قدم قدم پہ چراغ ایسے جلا گئی ہے علی کی بیٹی

یزیدیت کی ہر اک سازش پہ چھا گئی ہے علی کی بیٹی

کہیں بھی ایوان ظلم تعمیر ہو سکے گا نہ اب

جہاں میں ستم کی بنیاد اس طرح سے ہلا گئی ہے علی کی بیٹی

عجب مسیحا مزاج خاتون تھیں کہ لفظوں کے کیمیا سے

حسینیت کو بھی سانس لینا سکھا گئی ہے علی کی بیٹی

بھٹک رہا تھا دماغِ انسانیت جہالت کی تیرگی میں

جہنم کے اندھے بشر کو رستہ دکھا گئی ہے علی کی بیٹی

دکان وحدت کے جوہری دم بخود ہیں اس معجزے پہ اب تک

کہ سنگ ریزوں کو آبگینہ بنا گئی ہے علی کی بیٹی

خبر کرو اہل جور کو اب حسینیت انتقام لے گی

یزیدیت سے کہو سنبھل جائے کہ آگئی ہے علی کی بیٹی

نبی کا دین اب سنور سنور کر یہ بات تسلیم کر رہا ہے

اجڑ کے بھی انبیاء کے وعدے نبھا گئی ہے علی کی بیٹی

کئی خزانے سفر کے دوران کر گئی خاک کے حوالے

کہ پتھروں کی جڑوں میں ہیرے چھپا گئی ہے علی کی بیٹی

یقین نہ آئے تو کوفہ و شام کی فضاؤں سے پوچھ لینا

یزیدیت کے نقوش سارے مٹا گئی ہے علی کی بیٹی

ابد تک اب نہ سر اٹھا کے چلے گا کوئی یزید زادہ

غرور شاہی کو خاک میں یوں ملا گئی ہے علی کی بیٹی

گزر کے چپ چاپ لاش اکبر سے پابرہنہ رسن پہن کر

خود اپنے بیٹوں کے قاتلوں کو رلا گئی ہے علی کی بیٹی

میں اس کے در کے گدا گروں کا غلام بن کر چلا تھا محسن

اسی لئے مجھ کو رنج و غم سے بچا گئی ہے علی کی بیٹی

What do you say about it?

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s